shikwa-jawab-e-shikwa-allama-iqbal-urdu-poem-shairee-gazal-pernambut-bloggenr

اس نظم کا نام ”شکوہ“ اس لیے رکھا گیا ہے کہ موضوع کے اعتبار سے شکوہ بارگاہ الہٰی میں علامہ اقبال یا دور حاضر کے مسلمانوں کی ایک فریاد ہے۔ علامہ اقبال کہتے ہیں کہ ہم تیرے نام لیوا ہونے کے باوجود دنیا میں ذلیل و خوار ہیں۔ حالانکہ ہم تیرے رسول کے نام لیوا ہیں اور اس پر طرہ یہ ہے کہ تیرے انعامات اور نوازشات کے مستحق غیر مسلم ہیں۔ گویا علامہ اقبال نے شکوہ میں عام مسلمانوں کے لاشعوری احساسات کی ترجمانی کی ہے۔ بقول سلیم احمد ،

” ایک طرف ان کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ خدا اور اس کے محبوب کی سب سے چہیتی امت ہیں اور اس لیے خدا کی ساری نعمتوں کے سزاوار اور دوسری طرف یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ان کا مکمل زوال ہو چکا ہے عقیدے اور حقیقت کے اس ٹکرائو سے مسلمانوں کا وہ مخصوص المیہ پیدا ہوتا ہے جو ”شکوہ “ کا موضوع ہے۔“

علامہ اقبال کے اپنے الفاظ میں

” وہی بات جو لوگوں کے دلوں میں تھی ظاہر کر دی گئی“

سلسلہ فکر و خیال کی ترتیب کے مطابق نظم کو ہم مندرجہ ذیل حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں،

اظہار شکوہ کی توجیہ
یہ حصہ نہایت مختصر اور صرف دو بندوں پر مشتمل ہے۔ یہ دو بند جن میں شکوہ کرنے کی وجہ بیان کی گئی ہے۔ اور یہ مسلمانوں کی موجودہ بدحالی اور پستی پر اقبال کے رد عمل کا اظہار ہے۔ اقبال کے خیال میں مسلمان اب زوال و انحطاط کی اس منزل کو پہنچ چکے ہیں کہ جہاں پر خاموش رہنا نہ صرف اپنی ذات بلکہ ملت اسلامیہ کے اجتماعی مفاد سے بھی غداری کے مترادف ہے۔ اس موقع پر قصہ درد سنانا اگرچہ خلاف ادب ہے اور نالہ و فریاد کا یہ انداز گستاخانہ ہے مگر ہم ایسا کہنے پر مجبور ہیں۔ اقبال کہتے ہیں کہ ای خدائے بزرگ و برتر ” اربابِ وفا“ کا شکوہ بھی سن لے۔ کسی لمبے چوڑے پس منظر یا غیر ضروری طویل تمہید کے بغیر اللہ تعالٰی سے ہم کلام ہونا اسلامی تصورات کے عین مطابق ہے۔ اسلام کو تمام مذاہب کے مقابلے میں یہ انفرادیت حاصل ہے کہ اس میں بندہ خدا سے بلا واسطہ ہم کلام ہو سکتا ہے۔ جبکہ دوسرے مذاہب میں میں ایسا نہیں۔ ان کے انداز تخاطب میں شوخی اور بے ادبی نہ تھی ہاں ایک طرح کی بے تکلفی ضرور تھی جو بعض لوگوں کو کھٹکتی ہے۔

لیکن اقبال نے دانستہ طور پر یہ طرز تخاطب اختیار کیا تھا۔ دراصل اقبال ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پڑھنے والوں کو اس طرز تخاطب سے آشنا کرنا چاہتا ہے۔ گویا شکوہ کے اندازِ کلام کے لیے پڑھنے والوں کو مصنوعی طور پر تیار کر رہا ہے۔ اور یہ حقیقت ہے کہ اقبال نے شکوہ کے پہلے دو بندوں ہی میں بات یا موضوع سخن کو اس منزل تک پہنچا دیا ہے کہ بعد کی شکوہ سرائی اور گلہ مندی بالکل موزوں اور مناسب معلوم ہوتی ہے۔

Muhammad Iqbal was also a poet of stature in Urdu. Shikwa, published in 1909, and Jawab-e-Shikwa, published in 1913, extol the legacy of Islam and its civilizing role in history, bemoan the fate of Muslims everywhere, and squarely confront the dilemmas of Islam in modern times. Shikwa is in the form of a complaint to Allah for having let down Muslims and Jawab-e-Shikwa is in the form of God’s reply.

The central idea of the poem Shikwa is that God is not fulfilling his promise to protect followers of the Prophet from loss and a decline in fortune. In Jawab-e ShikwaGod answers directly that he has not broken his promise; instead it is the Muslims, his followers, who have turned away from the Path.

When the first of these poems, Shikwa, was published it created confusion among Muslim scholars who thought that Iqbal was being ungrateful for the blessings of God. The second poem, Jawab-e-Shikwa, was not announced with the publication of the first, but when it was published four years later Iqbal was praised for his contribution to Urdu poetry and Islamic literature.

This poem revitalizes the Emaan and shovel people to closeness of Allah.

A must read !!

Stay tuned, we will post one stanza a day with the interpretations.

 

 

Share On: