:ادبی لطیفہ 

اُس وقت کی بات ہے جب میں گیارہ سال کا طفلِ مکتب تھا اور تجوید سیکھ رہا تھا۔ ہمارے استاذ کا درسِ تجوید اعلیٰ تھا اور مخرج کی ادائیگی بھرپور تھی۔ اور میرے شہر کے اُس دور میں میرے نزدیک استاذ کا کوئی ثانی نہیں تھا اور نہ اب ہے۔ تختی نمبر ١ مفردات میں ہی اتنی مشق کرائی کہ میرا چلہ صَرف ہوگیا۔ لفظ ‘ح’ پر اتنی مشق کراتے تھے کہ اپنا قلم مبارک میرے کمزور حلق پر رکھ کر زور دیتے تھے کہ یہاں سے آواز نکالو اور لفظ ‘ہ’ کے لئے سینے پر رکھ کر۔ لفظ ‘م’ اور ‘ن’ پڑھتے ہوئے نتھنے بند کرنا اور کھولنا تاکہ یہ تصدیق کرنے لئے کہ آواز ناک سے نہ نکلے۔ تجوید کا یہ اثر ہوا کہ گفتگو کے وقت بھی کچھ الفاظ با مخرج نکل جایا کرتے تھے جس پر گھر والے اور دیگر احباب ہنستے تھے۔ ایک دن والدِ ماجد نے حکم صادر کیا کہ بازار سے شہد خرید کر لاؤ اور واضح کیا کے ان کے دوست کی دوکان سے ہی لانا۔ صاحبِ دوکان جو ابا کے دوست ہیں، سلام علیک کے بعد میں نے پوچھا : چاچا شہد ہے؟

Pernambut-blogger-Abrar-Abulhasan-Dear-Dairy1

میرے شہد کا ‘ہ’ پر مخرج اور تجوید سن کر جو میں نے نادانستہ طور پر کہا تھا، چاچا نے چشمہ نیچے کرکے ایک نظر مجھے دیکھا، زیرِ لب مسکرائے اور طنزیہ کہا :

“بیٹا شہد تو ہے مگر اتنا گاڑھا نہیں ہے”!!

اور اس ادبی حملے پر ہم دونوں بے ساختہ ہنس پڑے اور بعد میں والدِ محترم کو انہوں نے یہ لطف لیکر سنائی۔
اور آج دو دہائی ہونے کو ہیں جب بھی یہ باتیں یاد آتی ہے تو تبسم بکھیر دیتے ہیں۔ اور ان سے جب بھی ملاقات ہوتی ہے تو صاحبِ بزم جو بھی نئے ہیں انہیں شوق سے سناتے ہیں۔ یہ باتیں میرے ذہن میں ماضی اور بچپن کو گردش میں لاکر، خوشی کے آنسو رخسار پر رواں کر جاتے ہیں۔۔

تحریر : ابرار احمد ابوالحسن

Share On: